پاکستان نے مالی سال 2026 کے ابتدائی چار ماہ کے دوران غیر ملکی قرضوں کی آمدنی میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا ہے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 33 فیصد زیادہ ہے۔ اس اضافے کی بنیادی وجہ عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی جانب سے فراہم کی گئی معاونت ہے، جس نے حکومت کو نئے مالی سال کا آغاز نسبتاً مضبوط بنیادوں پر کرنے میں مدد دی۔
پاکستان میں غیر ملکی قرضوں کی آمدنی میں 33 فیصد اضافہ، آئی ایم ایف معاونت سے مالی سال کا بہتر آغاز
جولائی سے اکتوبر 2025 کے دوران ملک کو مجموعی طور پر 2 ارب 29 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کی بیرونی آمدنی (قرضے اور گرانٹس) موصول ہوئی، جو گزشتہ سال اسی عرصے میں ملنے والی 1 ارب 72 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کی آمدنی کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ صرف اکتوبر میں 47 کروڑ 10 لاکھ ڈالر موصول ہوئے، جب کہ گزشتہ سال اسی ماہ 41 کروڑ 40 لاکھ ڈالر موصول ہوئے تھے۔
رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال میں غیر ملکی قرضوں کے ذریعے 1 ارب 82 کروڑ 20 لاکھ ڈالر حاصل ہوئے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 39 فیصد اضافہ ظاہر کرتے ہیں۔ البتہ گرانٹس میں 73 فیصد کمی ہوئی اور یہ صرف 5 کروڑ 56 لاکھ ڈالر تک محدود رہیں۔
حکومت نے مالی سال 2026 کے لیے مجموعی بیرونی آمدنی کا ہدف 19 ارب 90 کروڑ ڈالر مقرر کیا ہے، جو گزشتہ سال کے 19 ارب 40 کروڑ ڈالر سے کچھ زیادہ ہے۔
وزارتِ اقتصادی امور کے مطابق پہلے چار ماہ میں منصوبہ جاتی فنانسنگ کی مد میں 77 کروڑ 30 لاکھ ڈالر جبکہ غیر منصوبہ جاتی آمدنی کی مد میں 1 ارب 52 کروڑ ڈالر وصول ہوئے۔ بجٹ سپورٹ کے لیے بھی 73 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کی رقم موصول ہوئی ہے، حالانکہ سالانہ ہدف 13 ارب 50 کروڑ ڈالر ہے۔
حکام کے مطابق سعودی آئل سہولت کے تحت ہر ماہ 10 کروڑ ڈالر کے حساب سے اب تک 40 کروڑ ڈالر موصول ہوئے۔ ملٹی لیٹرل اداروں سے اس عرصے میں 1 ارب 20 کروڑ ڈالر ملے، جو گزشتہ سال 72 کروڑ ڈالر تھے۔ دوطرفہ قرض دہندگان نے 44 کروڑ 90 لاکھ ڈالر فراہم کیے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 73 فیصد زیادہ ہیں۔
نیا پاکستان سرٹیفیکیٹس کے تحت بیرون ملک پاکستانیوں نے بھی بھرپور اعتماد کا اظہار کیا اور 73 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کی، جو گزشتہ سال 54 کروڑ 20 لاکھ ڈالر تھی۔
مجموعی طور پر رواں مالی سال کے 19 ارب 90 کروڑ ڈالر کے ہدف میں 6 ارب 40 کروڑ ڈالر ملٹی لیٹرل و بائی لیٹرل ذرائع، 40 کروڑ ڈالر انٹرنیشنل بانڈز، 3 ارب 10 کروڑ ڈالر تجارتی قرضے، 5 ارب ڈالر سعودی ٹائم ڈپازٹس اور 4 ارب ڈالر چین کے سیف ڈپازٹس سے حاصل کیے جائیں گے۔