پاکستانی ریپر طلحہ انجم کو نیپال میں کنسرٹ کے دوران بھارتی پرچم لہرانے پر سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا سامنا ہے، تاہم گلوکار نے واضح ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے فن کی کوئی سرحد نہیں اور وہ نفرت کی سیاست میں یقین نہیں رکھتے۔
رائزنگ اسٹار ایشیا کپ: پاکستان شاہینز کی بھارت اے پر 8 وکٹوں سے عبرتناک فتح
گزشتہ روز وائرل ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا گیا کہ طلحہ انجم کنسرٹ میں خیرسگالی اور دوستی کے جذبے کے طور پر بھارتی پرچم لہراتے اور اپنے کندھے پر اوڑھتے نظر آئے۔ سامعین کے مطابق گلوکار نے یہ قدم مختلف ممالک سے آئے ہوئے حاضرین کے احترام اور امن کا پیغام دینے کے لیے اٹھایا تھا۔
ویڈیو وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر ملے جلے ردعمل سامنے آئے۔ کچھ صارفین نے اسے فن کی آفاقیت اور امن کا مثبت پیغام قرار دیا، جبکہ متعدد صارفین نے اس اقدام پر ناراضی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ایک ایسے ملک کے لیے پرچم لہرانا مناسب نہیں تھا جو پاکستان کو مسلسل منفی انداز میں دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے۔
اس تنقید کے جواب میں طلحہ انجم نے ’ایکس‘ (سابق ٹوئٹر) پر جاری بیان میں کہا کہ ان کے دل میں کسی کے لیے نفرت نہیں، فن سرحدوں کا پابند نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ اگر بھارتی پرچم لہرانے سے تنازع پیدا ہوا ہے تو وہ یہی اقدام دوبارہ بھی دہرائیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ انہیں نہ میڈیا کے پروپیگنڈے کی پروا ہے اور نہ جنگی ماحول پیدا کرنے والی حکومتوں کی۔ ان کے مطابق ’’اردو ریپ سرحدوں سے ہمیشہ آزاد رہے گا‘‘۔
واضح رہے کہ حالیہ مہینوں میں پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے، خصوصاً مئی میں چار روزہ سرحدی جھڑپ کے بعد بھارت نے پاکستانی فنکاروں اور میڈیا پر مکمل بائیکاٹ برقرار رکھا ہوا ہے۔