پاکستان نے اے ڈی بی سے پالیسی قرضوں اور گرین فنانسنگ میں اضافی تعاون کی درخواست کردی

61 / 100 SEO Score

اسلام آباد (اسٹاف رپورٹر) پاکستان نے ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) سے پالیسی پر مبنی قرضوں، گرین بانڈز اور ڈیبٹ فار نیچر سوآپ جیسے جدید مالیاتی آلات میں تعاون بڑھانے کی درخواست کی ہے تاکہ موسمیاتی تبدیلی، انفرااسٹرکچر ڈویلپمنٹ اور وسائل کی تنظیم نو کے چیلنجز سے نمٹا جا سکے۔

یوٹیوبر ڈکی بھائی کے جسمانی ریمانڈ میں 4 روز کی مزید توسیع

وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے بدھ کے روز اے ڈی بی کے صدر ماساتو کاندا سے ملاقات کی، جو فروری میں عہدہ سنبھالنے کے بعد اپنے پہلے دورے پر پاکستان پہنچے ہیں۔ ملاقات میں 2026 سے 2035 تک کے لیے نئی "کنٹری پارٹنرشپ اسٹریٹیجی” پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔

وزیر خزانہ نے توانائی کی منتقلی، موسمیاتی لچک، ٹرانسپورٹ و لاجسٹکس، افرادی وسائل کی ترقی اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (PPP) منصوبوں کو پاکستان کی ترجیحات قرار دیتے ہوئے کہا کہ اے ڈی بی کی شراکت داری معیشت کی پائیدار بہتری اور طویل المدتی لچک کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان ٹیکس اصلاحات، ٹیرف میں توازن، سرکاری اداروں کی تنظیم نو اور ریگولیٹری ڈھانچے کی جدید کاری کے لیے پرعزم ہے۔

ماساتو کاندا نے پاکستان کی حالیہ معاشی بہتری اور اصلاحات کو سراہتے ہوئے کہا کہ اے ڈی بی موسمیاتی تبدیلی، آبادی سے جڑے چیلنجز اور انفرااسٹرکچر کی ضروریات میں بھرپور معاونت جاری رکھے گا۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ ادارہ پانڈا بانڈ سمیت دیگر جدید فنانسنگ آلات کے اجرا میں بھی تعاون کے لیے تیار ہے۔

وزیر خزانہ نے اس موقع پر اے ڈی بی کے صدر کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے اپنی مدتِ صدارت کے بعد پہلا غیر ملکی دورہ پاکستان کے لیے منتخب کیا۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ برسوں میں چیلنجز کے باوجود معیشت مستحکم ہوئی ہے، مہنگائی میں کمی اور کرنٹ اکاؤنٹ میں بہتری آئی ہے جبکہ بین الاقوامی کریڈٹ ایجنسیوں نے پاکستان کی ریٹنگ میں اضافہ کیا ہے جس سے قرض لینے کی لاگت میں کمی واقع ہوئی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے