آڈیٹر جنرل نے وفاقی حکومت میں 3750 کھرب کی بے ضابطگیوں کا انکشاف

56 / 100 SEO Score

اسلام آباد: آڈیٹر جنرل آف پاکستان (اے جی پی) نے مالی سال 24-2023 کے وفاقی اکاؤنٹس میں 3750 کھرب روپے سے زائد کی بے ضابطگیوں، مالی بدانتظامی اور قومی خزانے کو نقصان کی نشاندہی کی ہے، جو ملکی تاریخ میں ایک ریکارڈ قرار دیا جا رہا ہے۔

نبیل قریشی کا ببرک شاہ کے بیان پر طنزیہ ردِعمل: “فہد مصطفیٰ! آپ کب اداکاری سیکھیں گے؟”

اے جی پی کی سالانہ رپورٹ برائے 25-2024 کے مطابق عوامی فنڈز کا صرف 13 فیصد عوامی فلاح پر خرچ ہوا، جس پر ادارے نے سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ صورتحال مالیاتی نظم و ضبط پر سنگین سوالات کھڑے کرتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق 2841 کھرب روپے کی خریداری میں بے ضابطگیاں، 856 کھرب روپے کے نامکمل یا تاخیر سے ہونے والے ترقیاتی منصوبے اور 25 کھرب روپے کی ریکوری سے متعلق مسائل سامنے آئے۔ اس کے علاوہ 12 کھرب روپے کے گردشی قرضے کے تصفیے نہ ہونا، 958 ارب روپے کی قانون شکنی اور 677 ارب روپے کی کمزور اندرونی کنٹرول مینجمنٹ بھی رپورٹ میں شامل ہیں۔

آڈٹ رپورٹ میں کہا گیا کہ اخراجات کا 96 فیصد عام عوامی خدمات پر خرچ ہوا، جن میں 86 فیصد سے زائد صرف قرضوں اور ان کے سود کی ادائیگی پر خرچ ہوئے۔ یوں حکومت کے پاس سماجی و معاشی ترقی کے لیے محض 13 فیصد فنڈز بچے۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ 513 ارب روپے سے زائد اضافی گرانٹس پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر جاری کی گئیں جبکہ 212 ارب روپے فنڈز وقت پر واپس نہ کرنے سے ضائع ہوگئے۔ اے جی پی کے مطابق یہ غیر مجاز اقدامات پارلیمانی منظوری کے عمل کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہیں۔

آڈٹ مشاہدات اکاؤنٹنٹ جنرل ریونیو، کنٹرولر جنرل اکاؤنٹس، وزارت خزانہ اور متعلقہ وزارتوں کے پرنسپل اکاؤنٹنگ افسران کو بھجوا دیے گئے ہیں تاکہ اصلاحی اقدامات کیے جا سکیں۔

اے جی پی کا کہنا ہے کہ اگرچہ کئی اداروں میں اندرونی آڈٹ سیٹ اپ موجود ہیں لیکن موجودہ بے ضابطگیاں ظاہر کرتی ہیں کہ یہ نظام مؤثر ثابت نہیں ہو رہا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے