اسلام آباد: قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) نے ملک میں چینی کے حالیہ بحران اور قیمتوں میں ہوشربا اضافے پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔ ، کمیٹی کو بتایا گیا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران 67 شوگر ملز مالکان نے مجموعی طور پر 112 ارب روپے مالیت کی 74 کروڑ کلوگرام چینی برآمد کی۔
کراچی میں ٹریفک سگنلز پر کتابیں بیچنے والے بچوں کا گینگ گرفتار، شہریوں سے قیمتی سامان چرانے میں ملوث
چیئرمین پی اے سی اور رکن قومی اسمبلی جنید اکبر کی زیر صدارت اجلاس میں اپوزیشن ارکان کے مطالبے پر شوگر ملز مالکان کے نام کمیٹی میں پیش کیے گئے۔ اجلاس کو چینی کی برآمدات اور اس سے جڑے معاملات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
کمیٹی کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈبلیو ڈی شوگر ملز نے سب سے زیادہ 11 ارب روپے کی چینی برآمد کی، جبکہ حمزہ شوگر ملز نے 5 ارب اور رمضان شوگر ملز نے 2 ارب 40 کروڑ روپے مالیت کی چینی بیرون ملک بھیجی۔
اسی طرح ٹینڈلین والا شوگر ملز نے 6 ارب اور جے کے شوگر ملز نے 4 ارب روپے سے زائد کی چینی ایکسپورٹ کی۔
ارکان کمیٹی نے سوال اٹھایا کہ جب ملک میں چینی کی قلت ہے اور عام آدمی کو چینی مہنگے داموں خریدنی پڑ رہی ہے، تو کس بنیاد پر اس قدر بڑی مقدار میں چینی برآمد کی گئی؟ کمیٹی نے متعلقہ حکام سے تفصیلی رپورٹ طلب کرتے ہوئے عوام کو ریلیف دینے کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا۔
اجلاس میں یہ بھی کہا گیا کہ شوگر مافیا نے مقامی مارکیٹ کو نظر انداز کرتے ہوئے منافع کی خاطر چینی بیرون ملک فروخت کی، جس سے ملکی صارفین کو مالی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔