کے فور منصوبے میں اربوں روپے کی بے ضابطگیاں، آڈیٹر جنرل پاکستان کی رپورٹ میں انکشاف

57 / 100 SEO Score

کراچی: کراچی کو پانی فراہم کرنے والے کے فور منصوبے میں اربوں روپے کی مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ یہ انکشاف آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی 2022-23 کی سالانہ رپورٹ میں کیا گیا ہے۔

پاک بحریہ کی کمانڈ اینڈ اسٹاف کانفرنس اختتام پذیر، نیول چیف کا روایتی و غیر روایتی خطرات سے نمٹنے پر زور

رپورٹ کے مطابق پمپنگ اسٹیشن کی تعمیر کے لیے دیے گئے دو بڑے ٹھیکے مبینہ طور پر بے ضابطگیوں اور خلاف ضابطہ کارروائیوں کا شکار رہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایک ٹھیکا نجی کمپنی کو 15 ارب 39 کروڑ روپے میں دیا گیا، حالانکہ اس کا سرکاری تخمینہ 10 ارب 24 کروڑ روپے تھا۔

اسی کمپنی کو دوسرا ٹھیکا 15 ارب 84 کروڑ روپے میں دیا گیا، جبکہ اس کی تخمینہ لاگت 8 ارب 94 کروڑ روپے مقرر کی گئی تھی۔ رپورٹ کے مطابق دونوں ٹھیکوں کی بولی کی قیمتیں انجینئرز کے تخمینے اور پی سی ون کی منظوری سے کہیں زیادہ تھیں۔

آڈٹ رپورٹ میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ ایسی بولیوں کو مسترد کیا جانا چاہیے تھا، کیونکہ یہ پیپرا قوانین کے برخلاف تھیں۔ تاہم، ان بولیوں کو بغیر کسی جواز کے منظور کیا گیا، جس سے شفافیت پر سوالات اٹھے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ٹھیکے دینے کے عمل میں غیر منصفانہ اور بلاجواز فیصلے کیے گئے، جس سے قومی خزانے کو بھاری مالی نقصان پہنچا۔

یہ انکشاف ایسے وقت پر ہوا ہے جب کے فور منصوبہ کراچی کے شہریوں کے لیے پانی کے شدید بحران کا ممکنہ حل سمجھا جاتا ہے۔ تاہم، مالی بے ضابطگیوں نے اس منصوبے کی ساکھ اور شفافیت پر سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے