کراچی: 51 خطرناک عمارتیں گرانے کا فیصلہ، حکومت متبادل رہائش کی پابند نہیں — شرجیل میمن

56 / 100 SEO Score

لیاری میں پانچ منزلہ رہائشی عمارت گرنے کے المناک واقعے کے بعد سندھ حکومت نے کراچی سمیت صوبے بھر میں 51 انتہائی خستہ حال عمارتوں کو فوری طور پر گرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کا کہنا ہے کہ حکومت کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ ہر خستہ حال عمارت کے مکینوں کو متبادل رہائش فراہم کرے، اور نہ ہی اس کی کوئی قانونی پابندی موجود ہے۔

یہ بیان ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب گزشتہ جمعہ کو فدا حسین شیخا روڈ، لی مارکیٹ لیاری میں واقع عمارت گرنے سے 27 افراد جاں بحق ہو گئے تھے، جب کہ متعدد زخمی اور متاثرہ خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔

سینیئر بیوروکریٹس کے لیے بورڈ فیس کی حد ختم، عام اداروں پر کفایت شعاری نافذ

متاثرہ عمارت کی حالت اور نوٹسز:

سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA) کے مطابق، مذکورہ عمارت کو 2023 سے ناقابل رہائش قرار دیا گیا تھا اور اس کے مکینوں کو کئی بار نوٹسز بھی جاری کیے گئے تھے۔ تاہم، عمارت مکمل طور پر خالی نہ کروائی جا سکی اور بالآخر جمعہ کی صبح یہ افسوسناک سانحہ پیش آیا۔

حکومتی موقف:

جیو نیوز سے گفتگو میں شرجیل انعام میمن نے بتایا کہ سندھ بھر میں 740 خستہ حال عمارتیں موجود ہیں، جن میں سے 51 عمارتوں کو انتہائی خطرناک قرار دے کر 48 گھنٹوں میں خالی کرانے کے احکامات جاری کیے جا چکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ:

"یہ ممکن نہیں کہ حکومت ہر شخص کو متبادل رہائش فراہم کرے۔ ماضی میں ہم نے کورونا اور سیلاب کے دوران عارضی رہائش دی تھی، اب بھی جن کے پاس کوئی متبادل جگہ نہ ہو، ان کی حد تک مدد کی جا سکتی ہے۔”

SBCA افسر کی معطلی اور امداد کا اعلان:

واقعے کے بعد حکومت سندھ نے SBCA کے ڈائریکٹر جنرل اسحٰق کھوکھر کو معطل کر دیا ہے اور جاں بحق افراد کے لواحقین کے لیے 10 لاکھ روپے فی کس امداد کا اعلان کیا ہے۔

اپوزیشن کا شدید ردِعمل:

واقعے پر تحریک انصاف، متحدہ قومی موومنٹ (پاکستان) اور جماعت اسلامی نے سندھ حکومت اور SBCA کو مجرمانہ غفلت کا مرتکب قرار دیا ہے۔
اپوزیشن جماعتوں نے مطالبہ کیا ہے کہ:

متاثرہ خاندانوں کو فوری مالی امداد اور متبادل رہائش دی جائے

SBCA اور متعلقہ افسران کے خلاف غیر ارادی قتل کے تحت مقدمات درج کیے جائیں

ماضی کے سانحات — ایک تسلسل:

کراچی میں عمارتیں گرنے کے سانحات کوئی نئی بات نہیں۔ کچھ قابلِ ذکر واقعات:

اپریل 2024: بھینس کالونی میں 3 منزلہ عمارت گرنے سے 10 سالہ بچی جاں بحق

اکتوبر 2023: شاہ فیصل کالونی میں زیرِ تعمیر عمارت گرنے سے 5 اموات

جون 2020: لیاری میں 5 منزلہ عمارت گرنے سے 22 افراد جاں بحق

مارچ 2020: گل بہار میں حادثہ، 27 اموات

2011: لیاری کے موسیٰ لین میں 33 افراد جاں بحق

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے