سینیئر بیوروکریٹس کے لیے بورڈ فیس کی حد ختم، عام اداروں پر کفایت شعاری نافذ

55 / 100 SEO Score

وفاقی حکومت نے ایک جانب کفایت شعاری کے سخت اقدامات نافذ کیے ہیں، تو دوسری جانب سینیئر سرکاری افسران کو کارپوریٹ بورڈز سے حاصل ہونے والی آمدن پر عائد سالانہ 10 لاکھ روپے کی حد ختم کر کے مالی فوائد کا دروازہ کھول دیا ہے۔

“میں منٹو نہیں ہوں” پر سجل و ہمایوں کی جوڑی کو تنقید کا سامنا، ندیم بیگ کا ردعمل

وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ حالیہ اعلامیے کے مطابق 10 جولائی 2014 کو جاری ہونے والا وہ حکم نامہ جس میں افسران کی بورڈ فیس پر سالانہ 10 لاکھ روپے کی حد مقرر کی گئی تھی، اسے اب "ابتدائی طور پر واپس لے لیا گیا ہے”، جس کا مطلب ہے کہ مالی سال 2024-25 میں افسران کی بورڈ میٹنگز سے حاصل شدہ تمام آمدن کو قانونی اور جائز آمدنی تصور کیا جائے گا۔

پس منظر:

یہ حد پہلی مرتبہ سابق وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کے دور میں لگائی گئی تھی تاکہ سرکاری افسران کے مالی مفادات کو محدود رکھا جا سکے۔ تاہم بعد میں اس پر عملدرآمد میں نرمی آتی گئی، اور اب باضابطہ طور پر اس حکم کو غیر مؤثر قرار دے دیا گیا ہے۔

کفایت شعاری کے متوازی اقدامات:

اسی اعلامیے کے ساتھ وزارت خزانہ نے وفاقی حکومت، سرکاری کاروباری اداروں (SOEs)، ریگولیٹری اداروں اور قانونی تنظیموں پر کفایت شعاری کے سخت اقدامات نافذ کر دیے ہیں، جن کی تفصیل کچھ یوں ہے:

تمام اقسام کی گاڑیوں کی خریداری پر مکمل پابندی

نئے عہدے تخلیق کرنے پر پابندی

غیر ملکی علاج اور سرکاری خرچ پر غیر ضروری غیر ملکی دورے ممنوع

ان احکامات کو SOEs ایکٹ 2023 کی دفعہ 35 کے تحت قانونی حیثیت حاصل ہے

پنشنرز کے لیے خوشخبری:

علاوہ ازیں وزارت خزانہ نے ایک الگ اعلامیے میں تمام سول و عسکری پنشنرز کے لیے خالص پنشن میں 7 فیصد اضافہ کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔ اس میں:

دفاعی بجٹ سے تنخواہ لینے والے سویلین

ریٹائرڈ مسلح افواج کے اہلکار

سول آرمڈ فورسز کے ریٹائرڈ اہلکار

سب شامل ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے