اے آر وائی ڈیجیٹل کے نئے متوقع ڈرامے ’میں منٹو نہیں ہوں‘ میں اداکار ہمایوں سعید اور سجل علی کی جوڑی پر سوشل میڈیا پر تنقید کا سلسلہ جاری ہے، جس پر ہدایتکار ندیم بیگ نے وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ناظرین کو پورا ڈراما دیکھے بغیر رائے قائم نہیں کرنی چاہیے۔
بنگلہ دیش کے خلاف ٹی 20 سیریز: سینئر کھلاڑیوں کو آرام، نوجوان اسکواڈ کا اعلان
ندیم بیگ نے یہ بات صحافی ملیحہ رحمٰن کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہی، جہاں انہوں نے اس نئی پروڈکشن کے حوالے سے کئی اہم پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔
تنقید کا پس منظر:
ڈرامے کا محض ٹیزر ریلیز ہوتے ہی سوشل میڈیا پر بعض صارفین نے ہمایوں سعید اور سجل علی کی عمر کے فرق پر تنقید شروع کر دی۔ ناقدین کا کہنا تھا کہ ہمایوں سجل کے مقابلے میں خاصے بڑے لگ رہے ہیں، جس سے جوڑی غیر موزوں محسوس ہوتی ہے۔
ندیم بیگ کا مؤقف:
ندیم بیگ نے کہا کہ:
"ہمایوں سعید کا کردار منفرد نوعیت کا ہے، اور ٹیزر دیکھ کر فوری فیصلے کرنا درست نہیں۔”
انہوں نے اعتراف کیا کہ ابتدا میں وہ بھی ہمایوں کو یہ کردار دینے میں تھوڑا ہچکچاہٹ محسوس کر رہے تھے، مگر شوٹنگ کے ابتدائی دنوں میں ہی انہیں یقین ہو گیا کہ ہمایوں اس کردار کے لیے بہترین انتخاب ہیں۔
ہمایوں کی کاسٹنگ پر وضاحت:
ندیم بیگ کا کہنا تھا کہ ہمایوں سعید کے بارے میں اکثر تنقید اس لیے بھی ہوتی ہے کہ وہ خود پر بھرپور اعتماد رکھتے ہیں اور ہر کردار نبھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے ساتھ کیے گئے بیشتر پراجیکٹس کامیاب ثابت ہوئے۔
ڈرامے کی تفصیلات:
’میں منٹو نہیں ہوں‘ کی کہانی خلیل الرحمٰن قمر نے لکھی ہے اور ہدایتکار ندیم بیگ ہیں۔
ڈرامے کی کاسٹ میں شامل ہیں:
ہمایوں سعید
سجل علی
آصف رضا میر
صبا فیصل
صبا حمید
بابر علی
حاجرہ یامین
اذان سمیع خان
نمیر خان
صائمہ اور دیگر
موضوعاتی جھلک:
ڈرامے کے ٹیزر سے مکمل کہانی کا اندازہ تو نہیں ہوتا، تاہم واضح ہے کہ اس میں محبت، بدلتے سماجی رویے، خاندانی اقدار اور روایتی ذہنیت کو موضوع بنایا گیا ہے۔
سوشل میڈیا پر تنقید کا زاویہ:
صارفین خاص طور پر اداکار کی عمر اور کاسٹنگ کے انتخاب پر سوالات اٹھا رہے ہیں، تاہم ندیم بیگ کا کہنا ہے کہ کہانی میں کرداروں کا تعلق صرف ظاہری عمر پر نہیں بلکہ گہرائی اور جذباتی تناظر پر مبنی ہے۔