صدر ٹرمپ پاک-بھارت تنازع حل کرنے کے خواہاں، امریکی محکمہ خارجہ کا مسئلہ کشمیر کے پائیدار حل کا اشارہ

61 / 100 SEO Score

واشنگٹن (نیوز ڈیسک) — امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان ٹیمی بروس نے ایک اہم بیان میں اشارہ دیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ پاک-بھارت تنازع خصوصاً نسل در نسل جاری جنگ کو مستقل بنیادوں پر حل کرنا چاہتے ہیں۔ ہفتہ وار بریفنگ میں انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی ایسے تنازعات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے میں کامیاب رہے ہیں، اور پاکستان اور بھارت کا مسئلہ بھی حل کرلیں گے۔

تکنیکی بریفنگ نہ دینے پر صحافیوں کا ایف بی آر کی پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس سے واک آؤٹ

ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستانی وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں وفد نے حالیہ دورہ امریکہ کے دوران انڈر سیکریٹری ایلیس ہوکر سے ملاقات کی، جس میں جنگ بندی، دہشتگردی کے خلاف تعاون اور دوطرفہ تعلقات پر گفتگو ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کا تسلسل ایک مثبت پیش رفت ہے، جس پر صدر ٹرمپ، سیکریٹری مارکو روبیو اور نائب صدر جے ڈی وینس کی کوششوں کو سراہا گیا۔

ٹیمی بروس نے اگرچہ "کشمیر” کا براہ راست ذکر نہیں کیا، تاہم ان کے بیان میں نسل در نسل جنگ کے تناظر میں دیا گیا اشارہ ماہرین کے مطابق مسئلہ کشمیر کی طرف ہی اشارہ کرتا ہے۔ پاکستان واضح طور پر کئی بار مؤقف اختیار کرچکا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر خطے میں پائیدار امن ممکن نہیں۔

ترجمان نے مزید کہا کہ "صدر ٹرمپ وہ شخصیت ہیں جو ایسے فریقین کو بھی مذاکرات کی میز پر لا سکتے ہیں، جن کے درمیان کوئی مکالمہ ممکن نہیں سمجھا جاتا تھا۔” ان کے مطابق صدر جو بھی قدم اٹھاتے ہیں، وہ طویل المدتی حل کی نیت سے اٹھاتے ہیں، اور اس بات کا قوی امکان ہے کہ وہ پاک-بھارت کشیدگی کو کم کرنے میں مصالحتی کردار ادا کریں۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ اگرچہ وہ صدر کے منصوبوں کی تفصیلات نہیں بتا سکتیں، لیکن دنیا ان کی سفارتی فطرت سے بخوبی واقف ہے، اور وائٹ ہاؤس اس پر مزید روشنی ڈال سکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے