مہارت نیوز: سابق وزیر اعظم اور بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان نے اڈیالہ جیل میں میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں اگر چوری کرنی ہے تو اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل جائیں، پھر تمام کیسز ختم ہوجائیں گے۔ انہوں نے نیب ترامیم کو تباہی کا راستہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اشرافیہ نے اربوں کے کیس معاف کروالیے ہیں اور نیب ترامیم آئین کے خلاف ہیں۔
پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل عمر ایوب کا عہدے سے استعفیٰ
عمران خان نے الزام لگایا کہ نیب ترامیم کے بعد ملک میں وائٹ کالر کرائم کے لیے کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک کی اشرافیہ نے عوام سے قربانیاں مانگتے ہوئے اپنی چوریاں معاف کروائی ہیں، اور نیب کو خود مختار ادارہ بنانے کی ضرورت ہے تاکہ وائٹ کالر جرائم کا احتساب کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ ان کے دورِ حکومت میں نیب سابق آرمی چیف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ کے کنٹرول میں تھا اور نیب کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال نے بتایا تھا کہ زرداری اور شریف خاندان کے خلاف اربوں روپے کے ریفرنسز موجود ہیں لیکن جنرل باجوہ کارروائی نہیں ہونے دے رہے تھے۔
عمران خان نے نیب کے تفتیشی افسران کے خلاف بھی عدالتی کارروائی کا ارادہ ظاہر کیا تاکہ انہیں عوامی انتقام کا نشانہ بننے سے بچایا جا سکے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی اہلیہ 7 ماہ سے جیل میں ہیں بغیر کسی جرم کے اور کہا کہ ملک میں اشرافیہ کی جائیدادیں بیرون ملک ہیں۔
عمران خان نے کہا کہ 8 ستمبر کو عوام کو نکلنا ہوگا کیونکہ یہ حقیقی آزادی کی جنگ ہے اور آزادی انصاف سے آتی ہے۔