پی ٹی آئی کے مینار پاکستان جلسے کی اجازت کیس: لاہور ہائی کورٹ نے جواب طلب کر لیا

64 / 100 SEO Score

لاہور: لاہور ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی 8 فروری کو مینار پاکستان پر جلسے کی اجازت سے متعلق درخواست پر ڈپٹی کمشنر لاہور اور دیگر فریقین سے جواب طلب کر لیا۔

محسن نقوی نے تعلیمی اداروں میں منشیات کی فروخت کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کی کارکردگی کو سراہا

کیس کی تفصیلات

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس فاروق حیدر نے پی ٹی آئی پنجاب کی چیف آرگنائزر عالیہ حمزہ کی درخواست پر سماعت کی۔ درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ 29 جنوری کو جلسے کی اجازت کے لیے درخواست دی گئی تھی، لیکن کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ پی ٹی آئی کو جلسے کی اجازت دی جائے اور پارٹی کارکنان کو ہراساں کرنے یا گرفتار کرنے سے روکا جائے۔

ممکنہ گرفتاریوں کے خلاف درخواست

پی ٹی آئی کارکنان کی ممکنہ گرفتاریوں کے خدشے پر ایک اور درخواست ایڈووکیٹ اشتیاق اے خان نے لاہور ہائی کورٹ میں دائر کی ہے۔ اس میں آئی جی پنجاب، سی سی پی او لاہور اور دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔

درخواست میں الزام لگایا گیا کہ کارکنان کی فہرستیں مرتب کی جا رہی ہیں اور جلسے سے قبل ان کی گرفتاریوں کا خطرہ ہے۔ عدالت سے مطالبہ کیا گیا کہ ان ممکنہ گرفتاریوں کو روکا جائے۔

پی ٹی آئی کی یومِ سیاہ کی دھمکی

پی ٹی آئی پنجاب کی چیف آرگنائزر عالیہ حمزہ نے کہا کہ اگر جلسے کی اجازت نہیں ملی تو "یومِ سیاہ” منایا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پارٹی اس مرتبہ کسی قدغن کو قبول نہیں کرے گی اور قانونی راستہ اپنایا جائے گا۔

عدالت کی کارروائی

لاہور ہائی کورٹ نے دونوں درخواستوں پر ڈپٹی کمشنر لاہور سمیت دیگر فریقین سے فوری جواب طلب کیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے