کراچی وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے قومی انسداد پولیو مہم کا افتتاح کردیا۔ افتتاحی تقریب میں آئی جی پولیس غلام نبی میمن، کمشنر کراچی حسن نقوی، سیکریٹری صحت ریحان بلوچ، روٹری کے عزیز میمن اور ڈپٹی کمشنر ساؤتھ جاوید نبی بھی موجود تھے۔
سعید آباد سیکٹر 17B میں منگنی کی تقریب کے دوران ہوائی فائرنگ، پولیس کی کارروائی
وزیر اعلیٰ سندھ نے وزیراعلیٰ ہاؤس میں بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلا کر مہم کا آغاز کیا اور اس موقع پر "وال آف ہیروز” پر دستخط بھی کئے۔ انسداد پولیو مہم 3 تا 9 فروری 2025ء تک جاری رہے گی، جس کے دوران صوبے بھر میں 5 سال سے کم عمر کے 1 کروڑ 6 لاکھ بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے۔
وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ 82,000 فرنٹ لائن پولیو ورکرز گھر گھر جا کر بچوں کو ویکسین دیں گے، اور ان کی حفاظت کے لئے 21,844 سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ انہوں نے پولیس کے کردار کو قابل تعریف قرار دیا اور کہا کہ پاکستان دنیا کے صرف دو ممالک میں شامل ہے جہاں پولیو وائرس موجود ہے۔ سنہ 2024ء میں پاکستان میں 73 پولیو کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں سے 22 کیسز سندھ سے تھے۔
وزیر اعلیٰ سندھ نے واضح کیا کہ پولیو ٹیموں کو دھمکانے یا ان کے کام میں رکاوٹ ڈالنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی اور ان کی عزت کی جائے۔ انہوں نے والدین سے اپیل کی کہ وہ پولیو ورکرز کے ساتھ مکمل تعاون کریں، کیونکہ پولیو ویکسین محفوظ، مؤثر اور مفت ہے۔
وزیر اعلیٰ سندھ نے اساتذہ، علمائے کرام اور کمیونٹی رہنماؤں سے بھی اپیل کی کہ وہ عوام کو پولیو مہم میں بھرپور شرکت پر آمادہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ اور پاکستان کو پولیو فری بنانے میں ہر ایک فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔