تشکر نیوز: امریکا کی ریاست ٹیکساس میں ایک 42 سالہ خاتون الزبتھ وولف پر 3 سالہ فلسطینی نژاد امریکی مسلم بچی کو ڈبونے کی کوشش کے کیس میں باقاعدہ فرد جرم عائد کر دی گئی ہے۔
کراچی میں قبضہ مافیا کا پولیس ٹیم پر حملہ، 8 اہلکار زخمی
خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کے مطابق، پولیس نے الزام عائد کیا ہے کہ الزبتھ وولف نے نسلی تعصب کی بنا پر یہ اقدام اٹھایا۔ عدالتی ریکارڈ کے مطابق، الزبتھ وولف پر مئی میں ٹیرنٹ کاؤنٹی کے ججز نے فرد جرم عائد کی، جس میں نسلی منافرت کے جرم کا بھی ذکر ہے۔ اگر وہ قصور وار پائی جاتی ہیں تو سزا کی نوعیت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
پولیس رپورٹ کے مطابق، یہ واقعہ مئی میں ‘یولیس’ کے مضافاتی علاقے ڈیلاس فورٹ ورتھ میں ایک سوئمنگ پول میں پیش آیا۔ خاتون نے 3 سالہ بچی کی والدہ سے بحث کی، جو اپنے 6 سالہ بیٹے کے ساتھ سوئمنگ پول میں موجود تھیں، اور ان سے پوچھا کہ ان کا تعلق کہاں سے ہے۔ رپورٹ کے مطابق، ملزمہ نے بچی کو ڈبونے کی کوشش کی اور چھ سالہ بچے کو اس کی ماں سے چھیننے کی کوشش کی، تاہم ماں اپنی بیٹی کو پانی سے باہر نکالنے میں کامیاب رہی، اور مقامی ڈاکٹروں نے بچی کی حالت کو خطرے سے باہر قرار دیا۔
انسانی حقوق کی تنظیموں نے غزہ میں اسرائیلی جارحیت کے بعد امریکی نژاد مسلمانوں، عربوں، اور یہودیوں کے خلاف بڑھتے ہوئے خطرات سے خبردار کیا ہے۔
امریکا میں حالیہ دنوں میں تشویشناک واقعات میں شامل ہیں:
- اکتوبر 2023 میں الینوائے میں 6 سالہ فلسطینی نژاد امریکی بچے پر چاقو سے حملہ
- فروری 2024 میں ٹیکساس میں امریکی نژاد فلسطینی شخص پر چاقو کے وار
- نومبر 2023 میں ورمونٹ میں 3 فلسطینی نژاد امریکی طلبہ پر فائرنگ
علاوہ ازیں، کورنیل یونیورسٹی کے ایک سابق طالب علم کو اگست میں یہودیوں کے خلاف آن لائن دھمکیاں دینے کے جرم میں 21 ماہ قید کی سزا سنائی گئی، جبکہ فلوریڈا میں ایک اردنی شہری پر اسرائیل کی مبینہ حمایت پر ایک کاروباری ادارے کو دھمکیاں دینے کا الزام عائد کیا گیا۔