26ویں آئینی ترمیم پر پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس، مجوزہ ترمیم کا ڈرافٹ پیش

58 / 100 SEO Score

26ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے پارلیمانی کمیٹی کا خصوصی اجلاس منعقد ہوا جس میں حکومت نے مجوزہ ترمیم کا ڈرافٹ پیش کردیا۔

مہارت نیوز کے مطابق آئین میں 26ویں ترمیم کے حوالے سے کئی روز مشاورت اور اتحادیوں سے گفتگو کے بعد آج پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔

بلوچستان: دکی میں کوئلہ کانوں پر حملہ؛ 20 کان کن جاں بحق، 7 زخمی

ذرائع کے مطابق اجلاس میں 26ویں آئینی ترمیم کا مسودہ پیش کردیا گیا۔

اجلاس کے بعد گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پارلیمانی کمیٹی کی تفصیلی میٹنگ ہوئی جس میں تمام جماعتوں نے رائے دی اور پیپلز پارٹی نے اپنے اوریجنل ڈرافٹ کی تجاویز کمیٹی میں پیش کیں جس میں آئینی عدالت سے متعلق امور ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے یہ ڈرافٹ حکومت کے علاوہ تمام سیاسی جماعتوں کے سامنے پیش کیا، اس کے علاوہ حکومت نے جو وکلا سے بحث کی اس کے نکات بھی اس کمیٹی میں پیش کیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ وزیر قانون نے وکلا کے ساتھ ایک تفصیلی بحث کی اور اس کی تفصیلات بھی سامنے آئیں، اس حوالے سے جو وکلا کی تجاویز سامنے آئیں وہ بھی پیش کی گئیں۔

بلاول نے مزید کہاکہ اپوزیشن جماعتوں نے بھی اپنا موقف پیش کیا جبکہ مولانا فضل الرحمٰن نے بھی اپنا موقف دہرایا کہ پیپلز پارٹی کے ساتھ اتفاق رائے سے مسودہ بنانا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے بھی اس بات کو دہرایا کہ سیاسی جماعتوں کے ساتھ اتفاق رائے کرکے آئینی ترمیم ہو اور ہماری کوشش بھی یہی تھی، آج بھی یہی بات کہتے ہیں اور کل بھی یہی کوشش ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم صرف مخالفت برائے مخالفت نہیں کرنا چاہتے، وزیر قانون پر بڑی تنقید ضرور ہوئی کہ آپ نے سب کے ساتھ اتفاق رائے قائم کرنے کی کوشش نہیں کی لیکن وفاقی حکومت بہت پر اعتماد ہے کہ ان کے پاس نمبر گیم ہیں۔

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی نے کہا کہ وزیر قانون نے بتایا کہ ان کے پاس دو تہائی اکثریت موجود ہے مگر وہ تمام سیاسی جماعتوں سے اس معاملے پر اتفاق رائے کے لیے یہاں بیٹھے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں وزیر قانون کی بات کو سراہتا ہوں مگر گزشتہ ماہ سے اب تک اتفاق رائے کی ہی کوشش ہورہی ہے مگر حکومت ہمیں اتفاق رائے کے لیے کتنا وقت دے گی۔

بلاول نے کہا کہ ایسی صورت میں جب شھنگھائی تعاون تنظیم کا سربراہی اجلاس ہورہا ہے، میں بھرپور کوشش کررہا ہوں کہ اتفاق رائے قائم ہو، اگر اتفاق رائے میں وقت لگتا ہے تو شاید حکومت اپنے اس آئینی قانونی حق کو استعمال کرے اور اسے موو کرے مگر ہماری پوری کوشش ہے اور ہم نے ہمیشہ یہی موقف رکھا کہ ایک مکمل اتفاق رائے قائم ہو۔

انہوں نے مزید کہاکہ اس میں کوئی شک نہیں کہ 58 ٹو بی کے معاملے پر جلدی کی گئی تھی اور یہ ایک مثال ہے۔

اس سے قبل جمعیت علمائے اسلام(ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے خصوصی کمیٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں اجلاس کے دوران آئینی ترمیم کا مسودہ پیش کرنے کی تصدیق کی۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ حکومت نے آج پہلی مرتبہ آئینی ترمیم کا ڈرافٹ ہم سے شئیر کیا ہے، اب حکومت کی جانب سے اس پر بات چیت شروع ہو گی، دیکھتے ہیں حکومت کیا موقف اختیار کرتئ ہے۔

جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا پیپلز پارٹی کی تجاویز آج کے اجلاس میں سامنے آئی ہیں تو انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی تجاویز سامنے آ گئی ہیں اور اب ہم پیپلز پارٹی سے اس پر بات چیت کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی اپنا ڈرافٹ اتحادی جماعت مسلم لیگ(ن) سے بھی شیئر کرے گی اور امید ہے کہ بات چیت سے اتفاق رائے حاصل کیا جا سکے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے